نئی دہلی،08؍اپریل (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)کانگریس صدر راہل گاندھی پیر کواپواس رکھیں گے۔اس کے لئے وہ صبح دس بجے راج گھاٹ پہنچیں گے اور گاندھی سمادھی کے سامنے بیٹھیں گے۔اس اپواس میں راہل اکیلے نہیں ہوں گے بلکہ ان کے ساتھ کانگریس پارٹی کے وہ تمام وقف کارکن ہوں گے، جنہیں راہل گاندھی نے 9اپریل کو اپواس رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ایسے تمام لیڈر اور کارکن ملک بھر کے کانگریس ہیڈکواٹر پر اپنا اپواس رکھیں گے۔یہاں دہلی میں راہل گاندھی کے ساتھ بھی کئی سینئر کانگریسی لیڈراپواس میں شامل ہوں گے۔
اس اپواس کے پیچھے کی وجہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے بگڑتے ماحول اور دلتوں کے خلاف ہو رہے مظالم کو بتایا گیا ہے۔کانگریس کے نئی تنظیم کے سیکرٹری جنرل اشوک گہلوت کی جانب سے پارٹی کے تمام ریاستی صدور، اے آئی سی سی جنرل سکریٹریوں ؍ انچارج اور پارٹی اراکین کے رہنماؤں کے بھیجے گئے ہدایات میں کہا گیا ہے کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بچانے اور بڑھانے کے لئے تمام ریاستوں اور اضلاع کے کانگریس ہیڈکواٹر میں 9 اپریل کو اپواس رکھا جائے ایسا راہل گاندھی کی ہدایت ہے۔اس میں 2 اپریل کو بھارت بند کے دوران ہونے والی گڑبڑیوں اور تشدد کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے۔بی جے پی حکومت مرکز اور ریاست کی حکومتوں نے تشدد روکنے اور دلتوں کے حق کے تحفظ کے لئے کچھ نہیں کیا۔ایسے مشکل وقت میں کانگریس کو آگے بڑھ کر قیادت کرنے کی ضرورت ہے۔ راہل گاندھی اور کانگریس کا اپواس بی جے پی کے اپواس سے دو دن پہلے ہو رہا ہے۔معلوم ہو کہ بی جے پی کے تمام رہنما 12 اپریل کو اپواس رکھیں گے۔یہ ہدایات خود وزیر اعظم نریدر مودی کی جانب سے پارٹی ممبران پارلیمنٹ کو دی گئی ہے۔ دراصل مودی پارلیمنٹ نہیں چلنے دینے کے لئے اپوزیشن اور خاص طور پر کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔گزشتہ جمعہ کو بی جے پی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں انہوں بی جے پی ممبران پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ کانگریس کی پالیسیوں کے خلاف 12 تاریخ کو اپواس رکھیں ۔دلتوں کے معاملے نے جس طرح کا طول پکڑا اور بھارت بند کے دوران جو تشدد ہوئے اس کے پیچھے بی جے پی اپوزیشن کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔